Light Within

All this and you are not even worried! Will it help?

This may happen in Pakistan

Bookmark and Share

Mukhtar Masood, author of Awaz-e-Dost, Safar Naseeb, and Loh-e-Ayyam, writes that north western part of Persia was called Media and it comprised of small regions in 350 B.C. Keqabad was ruler in one of the constituencies. He was famous for his fairness so much so that people from other districts used to bring their feuds to him. He used to hear the cases and decide notwithstanding where the parties belonged.

With time justice seekers from other counties grew and it had to be announced that only those cases will be decided in which parties involved were from areas directly under his command. Masses were so fed up from their own rulers that they declared Keqabad as a king of entire Media.

If the rulers are incapable of delivering justice, populace can choose new. The countries where justice is not mated out, natives may merge it with another.

Labels: , ,

posted by S A J Shirazi @ Monday, December 23, 2019,

2 Comments:

At 20:47, Anonymous Saima Ashraf said...

One thing we learn from history is that we don't learn from history.

 
At 11:57, Anonymous Anonymous said...

ایک طوطا اور مینا کا گزر ایک ویرانے سے ہوا.. وہ دم لینے کے لئے ایک ٹنڈ منڈ درخت پر بیٹھ گئے.. طوطے نے مینا سے کہا.. " اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہو گا.. "

ساتھ والی شاخ پر ایک الو بیٹھا تھا.. اس نے یہ سن کر اڈاری ماری.. اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا.. علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا اور مینا کو مخاطب کیا.. اور کہا.. " آپ میرے علاقے میں آئے ہیں.. میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب کھانے پر تناول فرمائیں.. "

اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی.. رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس نکلنے لگے.. تو الو نے مینا کا ہاتھ پکڑ لیا.. اور طوطے کو مخاطب کر کے کہا.. " اسے کہاں لے کر جا رہے ہو.. یہ میری بیوی ہے.. "

یہ سن کر طوطا پریشان ہو گیا.. اور بولا.. " یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے.. یہ مینا ہے.. اور تم الو ہو.. تم زیادتی کر رہے ہو.. "

اس پر الو وزیر با تدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولا.. " ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں.. عدالتیں کھل گئی ہوں گی.. ہم وہاں چلتے ہیں.. وہ جو فیصلہ کریں گی.. ہمیں منظور ہوگا "

طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا.. جج نے دونوں طرف کے دلائل بہت تفصیل سے سنے.. اور آخر میں فیصلہ دیا کہ مینا طوطے کی نہیں الو کی بیوی ہے..

یہ سن کر طوطا روتا ہوا ایک طرف کو چل دیا.. ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ الو نے اسے آواز دی.. " تنہا کہاں جا رہے ہو.. اپنی بیوی تو لیتے جاؤ.. "

طوطے نے روتے ہوئے کہا.. " یہ میری بیوی کہاں ہے.. عدالت کے فیصلے کے مطابق اب یہ تمہاری بیوی ہے.. "

اس پر الو نے شفقت سے طوطے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا.. اور کہا.. " یہ میری نہیں تمہاری ہی بیوی ہے.. میں تو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الوؤں کی وجہ سے ویران نہیں ہوتیں.. بلکہ اس وقت ویران ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جاتا ہے..!! "

(خاموش امت کے لے ایک خاموش سا پیغام

 

Post a comment

<< Home


Popular Posts

How I Work From Home and Make Extra Money?

Why Everyone Blogs and Why You Too Should?

Business {Blogging} Proposal

Subscribe by Email

Blog Roll